ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندوتوا کاداعش سے موازنہ؛ شدت پسندتنظیموں کے کارکنوں نے سلمان خورشید کے گھر کو لگادی آگ

ہندوتوا کاداعش سے موازنہ؛ شدت پسندتنظیموں کے کارکنوں نے سلمان خورشید کے گھر کو لگادی آگ

Tue, 16 Nov 2021 11:26:22    S.O. News Service

نینی تال ،16؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید کی کتاب 'سن رائز اوور ایودھیا' پرناراض مبینہ  بی جے پی کارکنوں نے پیر کو نینی تال میں ان کے گھر کو  آگ لگادی ا  اورگھر پر پتھراؤ  کرتے ہوئے ایک طرح سے اس بات کو     ثابت کرنے کی کوشش کی کہ  سلمان خورشید نے اپنی کتاب میں  ہندوتوا کاداعش سے  جو موازنہ کیا تھا وہ درست ہے۔

گھر کوآگ لگنے  کی وڈیو خود سلمان خورشید نے  سوشیل میڈیا پر پوسٹ کی ہے اور بی جے پی کارکنوں پر سلمان خورشید کے گھر پر حملہ کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بدمعاشوں کے ہاتھ میں بی جے پی کا جھنڈا تھا۔ وہ فرقہ وارانہ نعرے لگا رہے تھے۔ اتفاق سے جب خورشید کے گھر پر حملہ ہوا تو ان کے خاندان کا کوئی فرد وہاں موجود نہیں تھا۔ ابھی تک اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ وہاں موجود ہر شخص کو محفوظ بتایا جارہا ہے۔ ساتھ ہی سلمان خورشید نے گھر پر حملے کی ویڈیو سوشیل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ہندوتوا نہیں ہو سکتا۔

گھر پر حملے کے بعد سلمان خورشید کی جانب سے پولیس کو معاملے سے آگاہ کیا گیا۔ پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا اور آگ بجھائی گئی۔ ان کے گھر کے باہر پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ دراصل خورشید نے اپنی تازہ کتاب میں ہندوتوا تنظیموں کا موازنہ  آئی ایس آئی ایس اور بوکو حرام سے کیا ہے جس کی وجہ سے وہ دائیں بازوں کے سیاست دانوں اور جماعتوں کی تنقید کی زد میں ہیں۔

اس دوران کانگریس پارٹی نے  واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات  کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے بتایا کہ جس پارٹی یا تنظیم کے لوگ اس طرح کا تشدد کر رہے ہیں وہ غلط ہے اور اسے کسی بھی طرح سے  قبول نہیں کیا جاسکتا۔


Share: